سب اک چراغ کے پروانے ہونا چاہتے ہیں

اسعد بدایونی

سب اک چراغ کے پروانے ہونا چاہتے ہیں

اسعد بدایونی

MORE BY اسعد بدایونی

    سب اک چراغ کے پروانے ہونا چاہتے ہیں

    عجیب لوگ ہیں دیوانے ہونا چاہتے ہیں

    نہ جانے کس لیے خوشیوں سے بھر چکے ہیں دل

    مکان اب یہ عزا خانے ہونا چاہتے ہیں

    وہ بستیاں کہ جہاں پھول ہیں دریچوں میں

    اسی نواح میں ویرانے ہونا چاہتے ہیں

    تکلفات کی نظموں کا سلسلہ ہے سوا

    تعلقات اب افسانے ہونا چاہتے ہیں

    جنوں کا زعم بھی رکھتے ہیں اپنے ذہن میں ہم

    پڑے جو وقت تو فرزانے ہونا چاہتے ہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    سب اک چراغ کے پروانے ہونا چاہتے ہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY