سب کے جلوے نظر سے گزرے ہیں

سید عابد علی عابد

سب کے جلوے نظر سے گزرے ہیں

سید عابد علی عابد

MORE BYسید عابد علی عابد

    سب کے جلوے نظر سے گزرے ہیں

    وہ نہ جانے کدھر سے گزرے ہیں

    موج آواز پائے یار کے ساتھ

    نغمے دیوار و در سے گزرے ہیں

    آج آیا ہے اپنا دھیان ہمیں

    آج دل کے نگر سے گزرے ہیں

    گھر کے گوشے میں تھے کہیں پنہاں

    جتنے سیلاب گھر سے گزرے ہیں

    زلف کے خم ہوں یا جہان کے غم

    مر مٹے ہم جدھر سے گزرے ہیں

    صدف تہ نشیں بھی کانپ گیا

    کیسے طوفان سر سے گزرے ہیں

    باغ شاداب موج گل ہی نہیں

    سیل خوں بھی ادھر سے گزرے ہیں

    جب چڑھی ہے کماں کہیں عابدؔ

    تیرے میرے جگر سے گزرے ہیں

    مآخذ :
    • کتاب : Jadeed Shora-e-Urdu (Pg. 695)
    • Author : Dr. Abdul Wahid
    • مطبع : Feroz sons Printers Publishers and Stationers

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY