سب کی سب کیا ہیں شب قدر ہماری راتیں

امام بخش ناسخ

سب کی سب کیا ہیں شب قدر ہماری راتیں

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    سب کی سب کیا ہیں شب قدر ہماری راتیں

    کٹتی ہیں آنکھوں ہی میں ہجر کی ساری راتیں

    ہائے کیا پیار سے سوتے تھے لپٹ کر اے جان

    یاد ہر دم مجھے آتی ہیں وہ پیاری راتیں

    دونوں زلفوں میں ہیں خورشید سے تاباں عارض

    روز روشن کے برابر ہیں تمہاری راتیں

    جو گھڑی ہے نظر آتی ہے مجھے ایک پہاڑ

    ہیں غضب فرقت محبوب کی بھاری راتیں

    ہجر میں صبح سے تا شام بجائے شبنم

    میری آنکھوں سے لہو رکھتی ہیں جاری راتیں

    سن پڑے رہتے ہیں بے یار اندھیرے میں ہم

    ہیں شب گور کے مانند ہماری راتیں

    شب تاریک جدائی میں یہ چلاتا ہوں

    دق بہت کرتی ہیں یا حضرت باری راتیں

    تیری زلفوں کے لیے شانہ بکف ہے ہر دن

    اور کرتی ہیں تری آئینہ داری راتیں

    فصل گل میں وہ گل تر نہیں گل کر دے چراغ

    کہ سیہ چاہئیں اے باد بہاری راتیں

    مرغ زرین فلک پر ہے یقین خفاش

    کس قدر میرے دنوں میں ہوئیں ساری راتیں

    دن کے بدلے بھی یہی آتی ہیں غم خواری کو

    مجھ سے رکھتی ہیں بہت ہجر میں یاری راتیں

    دن تو ناسخؔ کے بہ ہر حال گزر جاتے ہیں

    پر جدائی میں بہت لاتی ہیں خواری باتیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY