سب کو اپنے ذہن سے جھٹکا خود کو یاد کیا

انجم سلیمی

سب کو اپنے ذہن سے جھٹکا خود کو یاد کیا

انجم سلیمی

MORE BYانجم سلیمی

    سب کو اپنے ذہن سے جھٹکا خود کو یاد کیا

    لیکن ایسا سب کچھ لٹ جانے کے بعد کیا

    اس کو اس کی اپنی قربت نے سرشار رکھا

    مجھے تو شاید میرے ہجر نے ہی برباد کیا

    میں بھی خالی ہو کر اپنے گھر لوٹ آیا ہوں

    اس نے بھی اک ویرانے کو جا آباد کیا

    کس شفقت میں گندھے ہوئے مولا ماں باپ دیے

    کیسی پیاری روحوں کو میری اولاد کیا

    عشق میں انجمؔ لے ڈوبی ہے تھوڑی سی تاخیر

    جنموں پہلے جو واجب تھا وہ مابعد کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY