سب کچھ نہ کہیں سوگ منانے میں چلا جائے

ساقی فاروقی

سب کچھ نہ کہیں سوگ منانے میں چلا جائے

ساقی فاروقی

MORE BY ساقی فاروقی

    سب کچھ نہ کہیں سوگ منانے میں چلا جائے

    جی میں ہے کسی اور زمانے میں چلا جائے

    میں جس کے طلسمات سے باہر نکل آیا

    اک روز اسی آئنہ خانے میں چلا جائے

    جو میرے لیے آج صداقت کی طرح ہے

    وہ خواب نہ گم ہو کے فسانے میں چلا جائے

    سہما ہوا آنسو کہ سسکتا ہے پلک پر

    اب ٹوٹ کے دامن کے خزانے میں چلا جائے

    اک عمر کے بعد آیا ہے جینے کا سلیقہ

    دکھ ہوگا اگر جان بچانے میں چلا جائے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    سب کچھ نہ کہیں سوگ منانے میں چلا جائے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites