سب مداری ہیں تماشا بھی ہے کوئی کوئی

منظر نقوی

سب مداری ہیں تماشا بھی ہے کوئی کوئی

منظر نقوی

MORE BYمنظر نقوی

    سب مداری ہیں تماشا بھی ہے کوئی کوئی

    اب انہیں دیکھنے والا بھی ہے کوئی کوئی

    میری خاموشی کو تنہائی سمجھنے والو

    محفل دل میں تو آتا بھی ہے کوئی کوئی

    سرخ مٹی میں گرے آنسو بنے ہیں موتی

    خاک سے ڈھونڈھ کے لاتا بھی ہے کوئی کوئی

    ہنستے ہنستے ہوئے آنسو بھی نکل آتے ہیں

    روتے روتے ہوئے ہنستا بھی ہے کوئی کوئی

    چھوڑ جاتا ہے تو جائے یہ ہجوم دنیا

    مجمع غیر سے آیا بھی ہے کوئی کوئی

    میرؔ تو میر ہے صاحب تو نہیں ہے صاحب

    میرؔ کے دور میں سودا بھی ہے کوئی کوئی

    تیری دنیا میں مرا ذکر رہے گا منظرؔ

    صورت شعر میں دیکھا بھی ہے کوئی کوئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY