سب سمجھتے ہیں کہ ہم کس کارواں کے لوگ ہیں

اقبال عظیم

سب سمجھتے ہیں کہ ہم کس کارواں کے لوگ ہیں

اقبال عظیم

MORE BYاقبال عظیم

    سب سمجھتے ہیں کہ ہم کس کارواں کے لوگ ہیں

    پھر بھی پوچھا جا رہا ہے ہم کہاں کے لوگ ہیں

    ملت بیضا نے یہ سیکھا ہے صد ہا سال میں

    یہ یہاں کے لوگ ہیں اور وہ وہاں کے لوگ ہیں

    خالی پیمانے لیے بیٹھے ہیں رندان کرام

    مے کدہ ان کا ہے جو پیر مغاں کے لوگ ہیں

    ان سے مت پوچھو کہ منزل تم سے کیوں چھینی گئی

    ان کو مت چھیڑو یہ میر کارواں کے لوگ ہیں

    گل فروشی سے انہیں ہم روکنے والے ہیں کون

    ہم چمن کے لوگ ہیں وہ باغباں کے لوگ ہیں

    اپنے دشمن سے ہمیں اقبالؔ کوئی ڈر نہیں

    ان سے بے شک خوف ہے جو درمیاں کے لوگ ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    اقبال عظیم

    اقبال عظیم

    RECITATIONS

    اقبال عظیم

    اقبال عظیم

    اقبال عظیم

    سب سمجھتے ہیں کہ ہم کس کارواں کے لوگ ہیں اقبال عظیم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY