سب شریک صدمہ و آزار کچھ یوں ہی سے ہیں

مضطر خیرآبادی

سب شریک صدمہ و آزار کچھ یوں ہی سے ہیں

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    سب شریک صدمہ و آزار کچھ یوں ہی سے ہیں

    یار کچھ یوں ہی سے ہیں غم خوار کچھ یوں ہی سے ہیں

    ان کے سب افعال سب اطوار کچھ یوں ہی سے ہیں

    قول کچھ یوں ہی سے ہیں اقرار کچھ یوں ہی سے ہیں

    اپنے دیوانے سے مل لیجے اسی میں خیر ہے

    آپ ابھی رسوا سر بازار کچھ یوں ہی سے ہیں

    جس جگہ دیکھو نصیحت کے لیے موجود ہیں

    حضرت ناصح خدائی خوار کچھ یوں ہی سے ہیں

    دست وحشت نے گریباں کا صفایا کر دیا

    جیب کے پردے میں تھوڑے تار کچھ یوں ہی سے ہیں

    ان کے آنے کی خبر سن کر اڑا دی ہے خبر

    ورنہ مضطرؔ واقعی بیمار کچھ یوں ہی سے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 301)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY