سبب تھی فطرت انساں خراب موسم کا

فریاد آزر

سبب تھی فطرت انساں خراب موسم کا

فریاد آزر

MORE BYفریاد آزر

    سبب تھی فطرت انساں خراب موسم کا

    فرشتے جھیل رہے ہیں عذاب موسم کا

    وہ تشنہ لب بھی فریب نظر میں آئے گا

    اسے بھی ڈھونڈ ہی لے گا سراب موسم کا

    درخت یوں ہی اگر سبز سبز کٹتے رہے

    بدل نہ جائے زمیں پر نصاب موسم کا

    میں جس میں رہ نہ سکا جی حضوریوں کے سبب

    یہ آدمی ہے اسی کامیاب موسم کا

    اسی امید میں جوہی سے بھر گیا آنگن

    کہ کھلنے والا ہے اب کے گلاب موسم کا

    بہار ہو گئی پھر اپنے آپ شرمندہ

    کیا تھا دل نے بھی وہ انتخاب موسم کا

    کھلیں جو نیند سے آنکھیں ہماری یاں آذرؔ

    گزر چکا تھا زمانہ بھی خواب موسم کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY