سبب اس کی پریشانی کا میں ہوں

خورشید طلب

سبب اس کی پریشانی کا میں ہوں

خورشید طلب

MORE BYخورشید طلب

    سبب اس کی پریشانی کا میں ہوں

    نمک کی فصل وہ پانی کا میں ہوں

    یہ جنگل مجھ کو راس آنا نہیں ہے

    پرندہ دشت امکانی کا میں ہوں

    مری مشکل مری مشکل نہیں ہے

    وسیلہ تیری آسانی کا میں ہوں

    مجھے دنیا لٹا دے گی کوئی دن

    اثاثہ عالم فانی کا میں ہوں

    ابھی ساحل مرا رستہ نہ دیکھے

    ابھی دریا کی طغیانی کا میں ہوں

    وہیں مجھ کو سپرد خاک کرنا

    کہ جس خاک بیانی کا میں ہوں

    مرے ہونے کا کچھ مطلب تو ہوگا

    تو کیا بے کار بے معنی کا میں ہوں

    فقیرانہ طبیعت کا ہوں ورنہ

    طلبؔ حق دار سلطانی کا میں ہوں

    RECITATIONS

    خورشید طلب

    خورشید طلب

    خورشید طلب

    سبب اس کی پریشانی کا میں ہوں خورشید طلب

    مآخذ
    • کتاب : Jahaan Gard (Pg. 25)
    • Author : Khurshid Talab
    • مطبع : Adabistan Publications (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY