Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سبھی بچھڑ گئے مجھ سے گزرتے پل کی طرح

آفتاب شمسی

سبھی بچھڑ گئے مجھ سے گزرتے پل کی طرح

آفتاب شمسی

MORE BYآفتاب شمسی

    سبھی بچھڑ گئے مجھ سے گزرتے پل کی طرح

    میں گر چکا ہوں کسی خواب کے محل کی طرح

    نواح جسم میں روتا کراہتا دن رات

    مجھے ڈراتا ہے کوئی مری اجل کی طرح

    یہ شہر ہے یہاں اپنی ہی جستجو میں لوگ

    ملیں گے چلتے ہوئے چیونٹِیوں کے دل کی طرح

    میں اس سے ملتا رہا آج کی توقع پر

    وہ مجھ سے دور رہا آنے والے کل کی طرح

    نگر میں ذہن کے پھر شام سے ہے سناٹا

    اداس اداس ہے دل میرؔ کی غزل کی طرح

    نڈھال دیکھ کے بستر میں نیند کی پریاں

    پھر آج مجھ سے خفا ہو گئی ہیں کل کی طرح

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے