سبھی یہ پوچھتے رہتے ہیں کیا گم ہو گیا ہے

عرفان ستار

سبھی یہ پوچھتے رہتے ہیں کیا گم ہو گیا ہے

عرفان ستار

MORE BYعرفان ستار

    سبھی یہ پوچھتے رہتے ہیں کیا گم ہو گیا ہے

    بتا دوں؟ مجھ سے خود اپنا پتا گم ہو گیا ہے

    تمہارے دن میں اک روداد تھی جو کھو گئی ہے

    ہماری رات میں اک خواب تھا، گم ہو گیا ہے

    وہ جس کے پیچ و خم میں داستاں لپٹی ہوئی تھی

    کہانی میں کہیں وہ ماجرا گم ہو گیا ہے

    ذرا اہل جنوں آؤ، ہمیں رستہ سجھاؤ

    یہاں ہم عقل والوں کا خدا گم ہو گیا ہے

    نظر باقی ہے لیکن تاب نظارہ نہیں اب

    سخن باقی ہے لیکن مدعا گم ہو گیا ہے

    مجھے دکھ ہے کہ زخم و رنج کے اس جمگھٹے میں

    تمہارا اور میرا واقعہ گم ہو گیا ہے

    یہ شدت درد کی اس کے نہ ہونے سے نہ ہوتی

    یقیناً اور کچھ اس کے سوا گم ہو گیا ہے

    وہ جس کو کھینچنے سے ذات کی پرتیں کھلیں گی

    ہماری زندگی کا وہ سرا گم ہو گیا ہے

    وہ در وا ہو نہ ہو، آزاد و خودبیں ہم کہاں کے

    پلٹ آئیں تو سمجھو راستا گم ہو گیا ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY