سبز کھیتوں سے امڈتی روشنی تصویر کی

حماد نیازی

سبز کھیتوں سے امڈتی روشنی تصویر کی

حماد نیازی

MORE BYحماد نیازی

    سبز کھیتوں سے امڈتی روشنی تصویر کی

    میں نے اپنی آنکھ سے اک حرف گہ تعمیر کی

    سن قطار اندر قطار اشجار کی سرگوشیاں

    اور کہانی پڑھ خزاں نے رات جو تحریر کی

    کچی قبروں پر سجی خوشبو کی بکھری لاش پر

    خامشی نے اک نئے انداز میں تقریر کی

    بچپنے کی درس گاہوں میں پرانے ٹاٹ پر

    دل نے حیرانی کی پہلی بارگہہ تسخیر کی

    روشنی میں رقص کرتے خاک کے ذرات نے

    انتہائے آب و گل کی اولیں تفسیر کی

    کوہساروں کے سروں پر بادلوں کی پگڑیاں

    ایک تمثیل نمایاں آیۂ تطہیر کی

    دھند کے لشکر کا چاروں اور پہرا تھا مگر

    اک دیے نے روشنی کی رات بھر تشہیر کی

    آج پھر آب مقدس آنکھ سے ہجرت کیا

    گھر پہنچنے میں کسی نے آج پھر تاخیر کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY