سبزہ سے سب دشت بھرے ہیں تال بھرے ہیں پانی سے

ظفر صہبائی

سبزہ سے سب دشت بھرے ہیں تال بھرے ہیں پانی سے

ظفر صہبائی

MORE BYظفر صہبائی

    سبزہ سے سب دشت بھرے ہیں تال بھرے ہیں پانی سے

    میرے اندر خالی پن ہے کس کی بے ایمانی سے

    اب کے اپنی چھت بھی کھلی ہے دیواروں میں در ہیں بہت

    بارش دھوپ ہوا جو چاہے آ جائے آسانی سے

    سچائی ہمدردی یاری یوں ہم میں سے چلی گئی

    جیسے خود کردار خفا ہو جائیں کسی کہانی سے

    چہرے پر جو کچھ بھی لکھا ہے وہ سب ایک حقیقت ہے

    آئینہ کیا دیکھ رہے ہو تم اتنی حیرانی سے

    تقریریں دیتی ہیں دلاسے یا نفرت پھیلاتی ہیں

    تو میں اور تاریخیں لیکن بنتی ہیں قربانی سے

    خون کے رشتے خون میں ڈوبے ایک زمیں کے ٹکڑے پر

    صدیوں کا اپنا پن بھولے ہم کتنی آسانی سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY