صدائیں قید کروں آہٹیں چرا لے جاؤں

آشفتہ چنگیزی

صدائیں قید کروں آہٹیں چرا لے جاؤں

آشفتہ چنگیزی

MORE BY آشفتہ چنگیزی

    صدائیں قید کروں آہٹیں چرا لے جاؤں

    مہکتے جسم کی سب خوشبوئیں اڑا لے جاؤں

    بلا کا شور ہے طوفان آ گیا شاید

    کہاں کا رخت سفر خود کو ہی بچا لے جاؤں

    تری امانتیں محفوظ رکھ نہ پاؤں گا

    دوبارہ لوٹ کے آنے کی بس دعا لے جاؤں

    کہا ہے دریا نے وہ شرط ہار جائے گا

    جو ایک دن میں اسے ساتھ میں بہا لے جاؤں

    ابھی تو اور نہ جانے کہاں کہاں بھٹکوں

    کبھی بہایا تھا دریا میں جو دیا لے جاؤں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY