صداقتوں کے دہکتے شعلوں پہ مدتوں تک چلا کیے ہم

فضیل جعفری

صداقتوں کے دہکتے شعلوں پہ مدتوں تک چلا کیے ہم

فضیل جعفری

MORE BYفضیل جعفری

    صداقتوں کے دہکتے شعلوں پہ مدتوں تک چلا کیے ہم

    ضمیر کو تھپتھپا کے آخر سلا دیا اور خوش رہے ہم

    ردائے گریہ پہ تا قیامت نثار ہوتے رہیں گے دریا

    سبیل خون جگر سے نادار ساحلوں کو بھگو چلے ہم

    سفر تھا جب روشنی کی جانب تو پھر مآل سفر کا کیا غم

    چراغ کی طرح ساری شب شان سے جلے صبح بجھ گئے ہم

    فضیلؔ شاعر مدیر نقاد سب بہ ظاہر تھے ہم ہی لیکن

    ہمارے اندر تھا اور اک شخص جس سے پیہم لڑا کیے ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY