صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہے

ساحر لدھیانوی

صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہے

ساحر لدھیانوی

MORE BY ساحر لدھیانوی

    صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہے

    دکھ کی دھوپ کے آگے سکھ کا سایا ہے

    ہم کو ان سستی خوشیوں کا لوبھ نہ دو

    ہم نے سوچ سمجھ کر غم اپنایا ہے

    جھوٹ تو قاتل ٹھہرا اس کا کیا رونا

    سچ نے بھی انساں کا خوں بہایا ہے

    پیدائش کے دن سے موت کی زد میں ہیں

    اس مقتل میں کون ہمیں لے آیا ہے

    اول اول جس دل نے برباد کیا

    آخر آخر وہ دل ہی کام آیا ہے

    اتنے دن احسان کیا دیوانوں پر

    جتنے دن لوگوں نے ساتھ نبھایا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY