صدیوں سے شب و روز یہی سوچ رہا ہوں

عارج میر

صدیوں سے شب و روز یہی سوچ رہا ہوں

عارج میر

MORE BYعارج میر

    صدیوں سے شب و روز یہی سوچ رہا ہوں

    میں کون خدا کون ہے میں بھول گیا ہوں

    ایسے میں امنگیں ہی ذرا ساز اٹھائیں

    دہلیز پہ پھر سے میں ارادوں کی کھڑا ہوں

    ہر چند بھٹکنا پڑا بازار میں برسوں

    ہر شکل کی تصویر مگر کھینچ چکا ہوں

    آئے نہ یقیں آئے کسی اور کو مجھ پر

    صحرائے خموشی میں بہت دیر پھرا ہوں

    عارجؔ کبھی اترا ہوں اندھیروں کے جگر میں

    سورج کے سمندر میں کبھی غرق ہوا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY