سفر کے بعد بھی مجھ کو سفر میں رہنا ہے

عادل رضا منصوری

سفر کے بعد بھی مجھ کو سفر میں رہنا ہے

عادل رضا منصوری

MORE BY عادل رضا منصوری

    سفر کے بعد بھی مجھ کو سفر میں رہنا ہے

    نظر سے گرنا بھی گویا خبر میں رہنا ہے

    ابھی سے اوس کو کرنوں سے پی رہے ہو تم

    تمہیں تو خواب سا آنکھوں کے گھر میں رہنا ہے

    ہوا تو آپ کی قسمت میں ہونا لکھا تھا

    مگر میں آگ ہوں مجھ کو شجر میں رہنا ہے

    نکل کے خود سے جو خود ہی میں ڈوب جاتا ہے

    میں وہ سفینہ ہوں جس کو بھنور میں رہنا ہے

    تمہارے بعد کوئی راستہ نہیں ملتا

    تو طے ہوا کہ اداسی کے گھر میں رہنا ہے

    جلا کے کون مجھے اب چلے کسی کی طرف

    بجھے دیے کو تو عادلؔ کھنڈر میں رہنا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Sarsabz (Pg. 67)
    • Author : Krishan Kumar Toor
    • مطبع : Sarsabz Dharamshala (April to September 2013)
    • اشاعت : April to September 2013

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY