سفر کی دھوپ میں چہرے سنہرے کر لیے ہم نے

ساقی فاروقی

سفر کی دھوپ میں چہرے سنہرے کر لیے ہم نے

ساقی فاروقی

MORE BY ساقی فاروقی

    سفر کی دھوپ میں چہرے سنہرے کر لیے ہم نے

    وہ اندیشے تھے رنگ آنکھوں کے گہرے کر لیے ہم نے

    خدا کی طرح شاید قید ہیں اپنی صداقت میں

    اب اپنے گرد افسانوں کے پہرے کر لیے ہم نے

    زمانہ پیچ اندر پیچ تھا ہم لوگ وحشی تھے

    خیال آزار تھے لہجے اکہرے کر لیے ہم نے

    مگر ان سیپیوں میں پانیوں کا شور کیسا تھا

    سمندر سنتے سنتے کان بہرے کر لیے ہم نے

    وہی جینے کی آزادی وہی مرنے کی جلدی ہے

    دوالی دیکھ لی ہم نے دسہرے کر لیے ہم نے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    سفر کی دھوپ میں چہرے سنہرے کر لیے ہم نے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites