سفر پہ جیسے کوئی گھر سے ہو کے جاتا ہے

ذوالفقار عادل

سفر پہ جیسے کوئی گھر سے ہو کے جاتا ہے

ذوالفقار عادل

MORE BYذوالفقار عادل

    سفر پہ جیسے کوئی گھر سے ہو کے جاتا ہے

    ہر آبلہ مرے اندر سے ہو کے جاتا ہے

    جہاں سے چاہے گزر جائے موج امید

    یہ کیا کہ میرے برابر سے ہو کے جاتا ہے

    جنوں کا پوچھئے ہم سے کہ شہر کا ہر چاک

    اسی دکان رفوگر سے ہو کے جاتا ہے

    میں روز ایک زمانے کی سیر کرتا ہوں

    یہ راستہ مرے بستر سے ہو کے جاتا ہے

    ہمارے دل میں حوالے ہیں ساری یادوں کے

    ورق ورق اسی دفتر سے ہو کے جاتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY