صحرا کوئی بستی کوئی دریا ہے کہ تم ہو

سرفراز خالد

صحرا کوئی بستی کوئی دریا ہے کہ تم ہو

سرفراز خالد

MORE BYسرفراز خالد

    صحرا کوئی بستی کوئی دریا ہے کہ تم ہو

    سب کچھ مری نظروں کا تماشا ہے کہ تم ہو

    لوٹ آئے ہیں صحرا سے سبھی لوٹنے والے

    اس بار مرے شہر میں اچھا ہے کہ تم ہو

    تم ہو کہ مرے لب پہ دعا رہتی ہے کوئی

    آنکھوں نے کوئی خواب سا دیکھا ہے کہ تم ہو

    جب بھی کوئی دیتا ہے در خواب پہ دستک

    میں سوچنے لگتا ہوں کہ دنیا ہے کہ تم ہو

    یہ عشق کا جلتا ہوا صحرا ہے کہ میں ہوں

    یہ حسن کا بہتا ہوا دریا ہے کہ تم ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY