صحراؤں کے دوست تھے ہم خود آرائی سے ختم ہوئے

ذوالفقار عادل

صحراؤں کے دوست تھے ہم خود آرائی سے ختم ہوئے

ذوالفقار عادل

MORE BYذوالفقار عادل

    صحراؤں کے دوست تھے ہم خود آرائی سے ختم ہوئے

    اوپر اوپر خاک اڑائی گہرائی سے ختم ہوئے

    ویرانہ بھی ہم تھے خاموشی بھی ہم تھے دل بھی ہم

    یکسوئی سے عشق کیا اور یکتائی سے ختم ہوئے

    دریا دلدل پربت جنگل اندر تک آ پہنچے تھے

    اسی بستی کے رہنے والے تنہائی سے ختم ہوئے

    کتنی آنکھیں تھیں جو اپنی بینائی میں ڈوب گئیں

    کتنے منظر تھے جو اپنی پہنائی سے ختم ہوئے

    عادلؔ اس رہداری سے وابستہ کچھ گلدستے تھے

    رک رک کر بڑھنے والوں کی پسپائی سے ختم ہوئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY