سینت کر ایمان کچھ دن اور رکھنا ہے ابھی

صابر

سینت کر ایمان کچھ دن اور رکھنا ہے ابھی

صابر

MORE BYصابر

    سینت کر ایمان کچھ دن اور رکھنا ہے ابھی

    آج کل بازار میں مندی ہے سستا ہے ابھی

    درمیاں جو فاصلہ رکھا ہوا سا ہے ابھی

    اک یہی اس تک پہنچنے کا وسیلہ ہے ابھی

    یوں ہی سب مل بیٹھتے ہیں سابقون الاولون

    دشت میں جاری ہمارا آنا جانا ہے ابھی

    مسکرانا ایک فن ہے اور میں نومشق ہوں

    پھر بھی کیا کم ہے اسے بے چین دیکھا ہے ابھی

    قمقموں کی روشنی میں بھی نظر آتا ہے چاند

    گاؤں میں میرا پرانا اک شناسا ہے ابھی

    جا بجا بکھرے پڑے ہیں سارے اعضا خواب کے

    زیر مژگاں کس نے یہ شب خون مارا ہے ابھی

    کیوں نہ گھڑ لیں کچھ مناقب اور فضائل حبس کے

    جب اسی اندھے کنویں میں ہم کو جینا ہے ابھی

    RECITATIONS

    صابر

    صابر

    صابر

    سینت کر ایمان کچھ دن اور رکھنا ہے ابھی صابر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY