سیر دنیا سے غرض تھی محو دنیا کر دیا

ہری چند اختر

سیر دنیا سے غرض تھی محو دنیا کر دیا

ہری چند اختر

MORE BYہری چند اختر

    سیر دنیا سے غرض تھی محو دنیا کر دیا

    میں نے کیا چاہا مرے اللہ نے کیا کر دیا

    روکنے والا نہ تھا کوئی خدا کو اس لیے

    جو کچھ آیا اس کے جی میں بے محابا کر دیا

    ہاں اسی کم بخت دل نے کر دیا افشائے راز

    ہاں اسی کم بخت دل نے مجھ کو رسوا کر دیا

    عشق جا ان تیری باتوں میں نہیں آنے کے ہم

    اچھے اچھوں کو جہاں میں تو نے رسوا کر دیا

    زندگی بیٹھی تھی اپنے حسن پر بھولی ہوئی

    موت نے آتے ہی سارا رنگ پھیکا کر دیا

    حسن نے پہلے تو سب مجھ پر حقیقت کھول دی

    اور پھر خاموش رہنے کا اشارا کر دیا

    حسن کو پہنا چکے جب خود نمائی کا لباس

    عشق نے سر پیٹ کر پوچھا کہ یہ کیا کر دیا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے