صلیب درد پہ وارا گیا تھا کیوں مجھ کو

خورشید ربانی

صلیب درد پہ وارا گیا تھا کیوں مجھ کو

خورشید ربانی

MORE BYخورشید ربانی

    صلیب درد پہ وارا گیا تھا کیوں مجھ کو

    غم فراق سے مارا گیا تھا کیوں مجھ کو

    کسی خیال کسی خواب کے جزیرے پر

    تمام عمر گزارا گیا تھا کیوں مجھ کو

    پلٹ رہا تھا در خواب سے جو خالی ہاتھ

    تو بار بار پکارا گیا تھا کیوں مجھ کو

    کف گماں سے جو گرنا تھا عمر بھر کے لیے

    تو ایک پل کو سراہا گیا تھا کیوں مجھ کو

    اگر نہیں تھا یہاں کوئی منتظر میرا

    تو پھر فلک سے اتارا گیا تھا کیوں مجھ کو

    کسی نے میری طرف دیکھنا نہ تھا خورشیدؔ

    تو بے سبب ہی سنوارا گیا تھا کیوں مجھ کو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY