سنبھالنے سے طبیعت کہاں سنبھلتی ہے

محبوب خزاں

سنبھالنے سے طبیعت کہاں سنبھلتی ہے

محبوب خزاں

MORE BY محبوب خزاں

    سنبھالنے سے طبیعت کہاں سنبھلتی ہے

    وہ بے کسی ہے کہ دنیا رگوں میں چلتی ہے

    یہ سرد مہر اجالا یہ جیتی جاگتی رات

    ترے خیال سے تصویر ماہ جلتی ہے

    وہ چال ہو کہ بدن ہو کمان جیسی کشش

    قدم سے گھات ادا سے ادا نکلتی ہے

    تمہیں خیال نہیں کس طرح بتائیں تمہیں

    کہ سانس چلتی ہے لیکن اداس چلتی ہے

    تمہارے شہر کا انصاف ہے عجب انصاف

    ادھر نگاہ ادھر زندگی بدلتی ہے

    بکھر گئے مجھے سانچے میں ڈھالنے والے

    یہاں تو ذات بھی سانچے سمیت ڈھلتی ہے

    خزاں ہے حاصل ہنگامۂ بہار خزاںؔ

    بہار پھولتی ہے کائنات پھلتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY