سمندر کا تماشہ کر رہا ہوں

بخش لائلپوری

سمندر کا تماشہ کر رہا ہوں

بخش لائلپوری

MORE BYبخش لائلپوری

    سمندر کا تماشہ کر رہا ہوں

    میں ساحل بن کے پیاسا مر رہا ہوں

    اگرچہ دل میں صحرائے تپش ہے

    مگر میں ڈوبنے سے ڈر رہا ہوں

    میں اپنے گھر کی ہر شے کو جلا کر

    شبستانوں کو روشن کر رہا ہوں

    وہی لائے مجھے دار و رسن پر

    میں جن لوگوں کا پیغمبر رہا ہوں

    وہی پتھر لگا ہے میرے سر پر

    ازل سے جس کو سجدے کر رہا ہوں

    تراشے شہر میں نے بخشؔ کیا کیا

    مگر خود تا ابد بے گھر رہا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY