سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

وصی شاہ

سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

وصی شاہ

MORE BYوصی شاہ

    سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

    تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

    تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے

    کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

    تری یادوں کی خوشبو کھڑکیوں میں رقص کرتی ہے

    ترے غم میں سلگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

    نہ جانے ہو گیا ہوں اس قدر حساس میں کب سے

    کسی سے بات کرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

    میں سارا دن بہت مصروف رہتا ہوں مگر جوں ہی

    قدم چوکھٹ پہ رکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

    ہر اک مفلس کے ماتھے پر الم کی داستانیں ہیں

    کوئی چہرہ بھی پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

    بڑے لوگوں کے اونچے بد نما اور سرد محلوں کو

    غریب آنکھوں سے تکتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

    ترے کوچے سے اب میرا تعلق واجبی سا ہے

    مگر جب بھی گزرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

    ہزاروں موسموں کی حکمرانی ہے مرے دل پر

    وصیؔ میں جب بھی ہنستا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    وصی شاہ

    وصی شاہ

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY