سن لی صدائے کوہ ندا اور چل پڑے

مخمور سعیدی

سن لی صدائے کوہ ندا اور چل پڑے

مخمور سعیدی

MORE BYمخمور سعیدی

    سن لی صدائے کوہ ندا اور چل پڑے

    ہم نے کسی سے کچھ نہ کہا اور چل پڑے

    سائے میں دو گھڑی بھی نہ ٹھہرے گزرتے لوگ

    پیڑوں پہ اپنا نام لکھا اور چل پڑے

    ٹھہری ہوئی فضا میں الجھنے لگا تھا دم

    ہم نے ہوا کا گیت سنا اور چل پڑے

    تاریک راستوں کا سفر سہل تھا ہمیں

    روشن کیا لہو کا دیا اور چل پڑے

    رخت سفر جو پاس ہمارے نہ تھا تو کیا

    شوق سفر کو ساتھ لیا اور چل پڑے

    گھر میں رہا تھا کون کہ رخصت کرے ہمیں

    چوکھٹ کو الوداع کہا اور چل پڑے

    مخمورؔ واپسی کا ارادہ نہ تھا مگر

    در کو کھلا ہی چھوڑ دیا اور چل پڑے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY