سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیں

نظم طبا طبائی

سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیں

نظم طبا طبائی

MORE BYنظم طبا طبائی

    سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیں

    اپنا ہے اس پر آشیاں نخل جو بارور نہیں

    سنتے ہو اہل قافلہ میں کوئی راہ بر نہیں

    دیکھ رہا ہوں تم میں سے ایک بھی راہ پر نہیں

    موت کا گھر ہے آسماں اس سے کہیں مفر نہیں

    نکلیں تو کوئی در نہیں بھاگیں تو رہ گزر نہیں

    پہلے جگر پر آہ کا نام نہ تھا نشاں نہ تھا

    آخر کار یہ ہوا آہ تو ہے جگر نہیں

    صبح ازل سے تا ابد قصہ نہ ہوگا یہ تمام

    جور فلک کی داستاں ایسی بھی مختصر نہیں

    برگ خزاں رسیدہ ہوں چھیڑ نہ مجھ کو اے نسیم

    ذوق فغاں کا ہے مجھے شکوۂ ابر تر نہیں

    منکر حشر ہے کدھر دیکھے تو آنکھ کھول کر

    حشر کی جو خبر نہ دے ایسی کوئی سحر نہیں

    شبنم و گل کو دیکھ کر وجد نہ آئے کس طرح

    خندہ بے سبب نہیں گریہ بے اثر نہیں

    تیرے فقیر کا غرور تاجوروں سے ہے سوا

    طرف کلہ میں دے شکن اس کو یہ درد سر نہیں

    کوشک و قصر و بام و در تو نے بنا کئے تو کیا

    حیف ہے خانماں خراب دل میں کسی کے گھیر نہیں

    نالہ کشی رقیب سے میری طرح محال ہے

    دل نہیں حوصلہ نہیں زہرہ نہیں جگر نہیں

    شاطر پیر آسماں واہ ری تیری دست برد

    خسرو و کیقباد کی تیغ نہیں کمر نہیں

    شان کریم کی یہ ہے ہاں سے ہو پیشتر عطا

    لطف عطا کا کیا ہو جب ہاں سے ہو پیشتر نہیں

    لاکھ وہ بے رخی کرے لاکھ وہ کج روی کرے

    کچھ تو ملال اس کا ہو دل کو مرے مگر نہیں

    سن کے برا نہ مانئے سچ کو نہ جھوٹ جانئے

    ذکر ہے کچھ گلہ نہیں بات ہے نیشتر نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY