سنگ کو تکیہ بنا خواب کو چادر کر کے

جمال احسانی

سنگ کو تکیہ بنا خواب کو چادر کر کے

جمال احسانی

MORE BY جمال احسانی

    سنگ کو تکیہ بنا خواب کو چادر کر کے

    جس جگہ تھکتا ہوں پڑ رہتا ہوں بستر کر کے

    اب کسی آنکھ کا جادو نہیں چلتا مجھ پر

    وہ نظر بھول گئی ہے مجھے پتھر کر کے

    یار لوگوں نے بہت رنج دیے تھے مجھ کو

    جا چکا ہے جو حساب اپنا برابر کر کے

    اس کو بھی پڑ گیا اک اور ضروری کوئی کام

    میں بھی گھر پر نہ رہا وقت مقرر کر کے

    پوچھنا چاہتا ہوں اس نگہ‌ و دل سے جمالؔ

    کس کو آباد کیا ہے مجھے بے گھر کر کے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY