سر چھپانے کے لیے چھت نہیں دی جا سکتی

خالدہ عظمی

سر چھپانے کے لیے چھت نہیں دی جا سکتی

خالدہ عظمی

MORE BYخالدہ عظمی

    سر چھپانے کے لیے چھت نہیں دی جا سکتی

    ہر کسی کو یہ سہولت نہیں دی جا سکتی

    سانس لینے کے لیے سب کو میسر ہے ہوا

    اس سے بڑھ کر تو رعایت نہیں دی جا سکتی

    تم کو راس آئے نہ آئے مری بستی کی فضا

    یاں کسی جاں کی ضمانت نہیں دی جا سکتی

    ایک مدت کے شب و روز لہو ہوتے ہیں

    طشت میں رکھ کے قیادت نہیں دی جا سکتی

    زیست اور موت کا آخر یہ فسانہ کیا ہے

    عمر کیوں حسب ضرورت نہیں دی جا سکتی

    ان دریچوں سے کوئی موجۂ خوش کن آئے

    راحت جاں یہ اجازت نہیں دی جا سکتی

    سوز دل تحفۂ قدرت ہے وگرنہ عظمیٰؔ

    برف کو نرم حرارت نہیں دی جا سکتی

    مأخذ :
    • کتاب : Sitara Pas e Mizgaan (Pg. 42)
    • Author : Khalida Uzma
    • مطبع : Dunya e Adab, Karachi (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY