سر صحرائے دنیا پھول یوں ہی تو نہیں کھلتے

فضیل جعفری

سر صحرائے دنیا پھول یوں ہی تو نہیں کھلتے

فضیل جعفری

MORE BYفضیل جعفری

    سر صحرائے دنیا پھول یوں ہی تو نہیں کھلتے

    دلوں کو جیتنا پڑتا ہے تحفے میں نہیں ملتے

    یہ کیا منظر ہے جیسے سو گئی ہوں سوچ کی لہریں

    یہ کیسی شام تنہائی ہے پتے تک نہیں ہلتے

    مزا جب تھا کہ بوتل سے ابلتی پھیلتی رت میں

    دھواں سانسوں سے اٹھتا گرم بوسوں سے بدن چھلتے

    جو بھر بھی جائیں دل کے زخم دل ویسا نہیں رہتا

    کچھ ایسے چاک ہوتے ہیں جو جڑ کر بھی نہیں سلتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY