سر جھکا کر شاہ کے دربار میں

نبیل احمد نبیل

سر جھکا کر شاہ کے دربار میں

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    سر جھکا کر شاہ کے دربار میں

    چھید ہم نے سو کیے دستار میں

    زندگانی جیسی یہ انمول شے

    کاٹ دی ہے حسرت بے کار میں

    دامنوں میں بھرتے ہیں محرومیاں

    لے کے خالی جیب ہم بازار میں

    سرخیاں بن کر اگلتی ہے لہو

    آدمیت شام کے اخبار میں

    سر کو ٹکراتے رہے ہم عمر بھر

    در کوئی نکلا نہیں دیوار میں

    جس قدر بھرتا رہا اونچی اڑان

    آدمی گرتا گیا معیار میں

    سب پرندے کر گئے ہجرت نبیلؔ

    کون بیٹھے سایۂ اشجار میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY