سر پر تھی کڑی دھوپ بس اتنا ہی نہیں تھا

منظور ہاشمی

سر پر تھی کڑی دھوپ بس اتنا ہی نہیں تھا

منظور ہاشمی

MORE BYمنظور ہاشمی

    سر پر تھی کڑی دھوپ بس اتنا ہی نہیں تھا

    اس شہر کے پیڑوں میں تو سایا ہی نہیں تھا

    پانی میں ذرا دیر کو ہلچل تو ہوئی تھی

    پھر یوں تھا کہ جیسے کوئی ڈوبا ہی نہیں تھا

    لکھے تھے سفر پاؤں میں کس طرح ٹھہرتے

    اور یہ بھی کہ تم نے تو پکارا ہی نہیں تھا

    اپنی ہی نگاہوں پہ بھروسہ نہ رہے گا

    تم اتنا بدل جاؤگے سوچا ہی نہیں تھا

    کندہ تھے مرے ذہن پہ کیوں اس کے خد و خال

    چہرہ جو مری آنکھ نے دیکھا ہی نہیں تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY