سر پہ سجنے کو جو تیار ہے میرے اندر

لیاقت جعفری

سر پہ سجنے کو جو تیار ہے میرے اندر

لیاقت جعفری

MORE BYلیاقت جعفری

    سر پہ سجنے کو جو تیار ہے میرے اندر

    گرد آلود سی دستار ہے میرے اندر

    جس کے مر جانے کا احساس بنا رہتا ہے

    مجھ سے بڑھ کر کوئی بیمار ہے میرے اندر

    روز اشکوں کی نئی فصل اگا دیتا ہے

    ایک بوڑھا سا زمیندار ہے میرے اندر

    کتنا گھنگھور اندھیرا ہے مری رگ رگ میں

    اس قدر روشنی درکار ہے میرے اندر

    دب کے مر جاؤں گا اک روز میں اپنے نیچے

    ایک گرتی ہوئی دیوار ہے میرے اندر

    کون دیتا ہے یہ ہر وقت گواہی میری

    کون یہ میرا طرف دار ہے میرے اندر

    میرے لکھے ہوئے ہر لفظ کو جھٹلاتا ہے

    مجھ سے بڑھ کر کوئی فن کار ہے میرے اندر

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    لیاقت جعفری

    لیاقت جعفری

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY