سراب جسم کو صحرائے جاں میں رکھ دینا

فضا ابن فیضی

سراب جسم کو صحرائے جاں میں رکھ دینا

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    سراب جسم کو صحرائے جاں میں رکھ دینا

    ذرا سی دھوپ بھی اس سائباں میں رکھ دینا

    تجھے ہوس ہو جو مجھ کو ہدف بنانے کی

    مجھے بھی تیر کی صورت کماں میں رکھ دینا

    شکست کھائے ہوئے حوصلوں کا لشکر ہوں

    اٹھا کے مجھ کو صف دشمناں میں رکھ دینا

    جدید نسلوں کی خاطر یہ ورثہ کافی ہے

    مرے یقیں کو حصار گماں میں رکھ دینا

    یہ موج تاکہ سفینے کو گرم رو رکھے

    کچھ آگ خیمۂ آب رواں میں رکھ دینا

    بہت طویل ہے کالے سمندروں کا سفر

    مجھے ہوا کی جگہ بادباں میں رکھ دینا

    میں اپنے ذمے کسی کا حساب کیوں رکھوں

    جو نفع ہے اسے جیب زیاں میں رکھ دینا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    سراب جسم کو صحرائے جاں میں رکھ دینا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY