سرد جذبے بجھے بجھے چہرے

کیف احمد صدیقی

سرد جذبے بجھے بجھے چہرے

کیف احمد صدیقی

MORE BYکیف احمد صدیقی

    سرد جذبے بجھے بجھے چہرے

    جسم زندہ ہیں مر گئے چہرے

    آج کے دور کی علامت ہیں

    فلسفی ذہن سوچتے چہرے

    سیل غم سے بھی صاف ہو نہ سکے

    گرد آلود ملگجے چہرے

    یخ زدہ سوچ کے دریچوں میں

    کس نے دیکھے ہیں کانپتے چہرے

    اک برس بھی ابھی نہیں گزرا

    کتنی جلدی بدل گئے چہرے

    میں نے اکثر خود اپنے چہرے پر

    دوسروں کے سجا لئے چہرے

    وہ تو نکلے بہت ہی بد صورت

    کیفؔ دیکھے تھے جو سجے چہرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY