سرحد فنا تک بھی تیرگی نہیں آئی

سلام ؔمچھلی شہری

سرحد فنا تک بھی تیرگی نہیں آئی

سلام ؔمچھلی شہری

MORE BYسلام ؔمچھلی شہری

    سرحد فنا تک بھی تیرگی نہیں آئی

    یوں بھی راس اندھیروں کی زندگی نہیں آئی

    تم شراب پی کر بھی ہوش مند رہتے ہو

    جانے کیوں مجھے ایسی مے کشی نہیں آئی

    جس کی بھی تباہی ہو کچھ اثر تو رکھتی ہے

    آج میری حالت پر کیوں ہنسی نہیں آئی

    اور بھی درخشاں ہو اے مرے نئے سورج

    اب بھی میرے آنگن میں روشنی نہیں آئی

    رہروان دانش کی زندگی بتاتی ہے

    کام کن منازل میں آگہی نہیں آئی

    لوگ چار ہی دن میں بن گئے سلامؔ اے دل

    اور خود مجھے اب تک شاعری نہیں آئی

    مأخذ :
    • کتاب : Intekhab-e-Kalam Salam Machhli Shahri (Pg. 112)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY