سروں پہ بجلی گری تار تھرتھرانے لگے

سید ضامن عباس کاظمی

سروں پہ بجلی گری تار تھرتھرانے لگے

سید ضامن عباس کاظمی

MORE BY سید ضامن عباس کاظمی

    سروں پہ بجلی گری تار تھرتھرانے لگے

    مگر یہ گیت نئی نسل کو سہانے لگے

    ہم اپنے سرد سوالوں پہ زرد ہیں اور آپ

    جواب بن نہیں پایا تو مسکرانے لگے

    بھلا ہو وقت کا وہ راستہ بھٹک گئی تھی

    مدد کے راستے ہم راستہ بنانے لگے

    وہ جس کو آپ نے نایاب پینٹنگ کہا ہے

    مجھے تو پانچ چھ رنگوں کے چار خانے لگے

    تری نظر کے بدلنے سے وقت یوں بدلا

    مرے ہی فیصلے میرے خلاف جانے لگے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY