سرشار ہوں ساقی کی آنکھوں کے تصور سے

آسی رام نگری

سرشار ہوں ساقی کی آنکھوں کے تصور سے

آسی رام نگری

MORE BYآسی رام نگری

    سرشار ہوں ساقی کی آنکھوں کے تصور سے

    ہے کوئی غرض مجھ کو بادہ سے نہ ساغر سے

    اس دور میں میخانے کا نظم نرالا ہے

    پی کر کوئی بہکے ہم اک جرعہ کو بھی ترسے

    کتنے ہیں جو اک قطرہ سے پیاس بجھاتے ہیں

    سیراب نہیں ہوتے کچھ لوگ سمندر سے

    ہشیار بہت رہنا ہے آج کے راہی کو

    جتنا نہیں رہزن سے ڈر اتنا ہے رہبر سے

    جرأت کے دھنی جو ہیں مے خانہ ہی ان کا ہے

    جرأت نہ ہو جس میں وہ اک جام کو بھی ترسے

    اس دل کو سمجھنا کچھ آسان نہیں پیارے

    یہ سخت ہے پتھر سے نازک ہے گل تر سے

    سوچا تھا نہ پیمانہ اب منہ سے لگاؤں گا

    کیا خیر ہو توبہ کی جب گھر کے گھٹا برسے

    ان سے کوئی کہہ دے وہ خود اپنا مقدر ہیں

    جو لوگ گلہ کرتے ہیں اپنے مقدر سے

    مأخذ :
    • کتاب : Harf Harf Khowab (Pg. 67)
    • Author : asi ramnagari
    • مطبع : Nasim Pathara Po. Moghalsarai (Varansi) (1992)
    • اشاعت : 1992

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY