ستاتا وہ اگر فطرت سے ہٹ کے

محسن اسرار

ستاتا وہ اگر فطرت سے ہٹ کے

محسن اسرار

MORE BYمحسن اسرار

    ستاتا وہ اگر فطرت سے ہٹ کے

    تو پتھر مارتا میں بھی پلٹ کے

    جو میں نے انتظار یار کھینچا

    مرا گھر بن گئی دنیا سمٹ کے

    بہت کچھ ہے نفس کی انجمن میں

    مگر میں جی رہا ہوں سب سے ہٹ کے

    میں ان خاموشیوں میں رہ رہا ہوں

    جہاں آتی ہیں آوازیں پلٹ کے

    دیے کی لو ذرا جو ڈگمگائی

    زمیں پر آسماں آیا جھپٹ کے

    یہ سچ ہے میں وہی ہوں تو وہی ہے

    مگر اب سانس لے کچھ دور ہٹ کے

    گزارا دن مشقت کرتے کرتے

    گزاری رات پتھر سے لپٹ کے

    ترے بارے میں سوچے جا رہا ہوں

    مگر اب لگ رہے ہیں دل کو جھٹکے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے