سو الجھنوں کے بیچ گزارا گیا مجھے

نبیل احمد نبیل

سو الجھنوں کے بیچ گزارا گیا مجھے

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    سو الجھنوں کے بیچ گزارا گیا مجھے

    جب بھی تری طلب میں سنوارا گیا مجھے

    کم ہو سکا نہ پھر بھی مرا مرتبہ اگر

    پستی میں آسماں سے اتارا گیا مجھے

    سلجھی نہ ایک بار کہیں زلف زندگی

    گرچہ ہزار بار سنوارا گیا مجھے

    اپنے مفاد کے لیے میدان جنگ میں

    جیتا گیا کبھی کبھی ہارا گیا مجھے

    دھویا گیا بدن مرا اشکوں کے آب سے

    میرے لہو کے ساتھ نکھارا گیا مجھے

    پھر بھی رواں دواں ہوں میں موج حیات میں

    سو بار گرچہ دہر میں مارا گیا مجھے

    رکھ کر چلوں گا جان ہتھیلی پہ میں نبیلؔ

    مقتل سے جس گھڑی بھی پکارا گیا مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY