سوال سخت تھا دریا کے پار اتر جانا

فضا ابن فیضی

سوال سخت تھا دریا کے پار اتر جانا

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    سوال سخت تھا دریا کے پار اتر جانا

    وہ موج موج مگر خود مرا بکھر جانا

    یہ کیا خبر تمہیں کس روپ میں ہوں زندہ میں

    ملے نہ جسم تو سائے کو قتل کر جانا

    پڑا ہوں یخ زدہ صحرائے آگہی میں ہنوز

    مرے وجود میں تھوڑی سی دھوپ بھر جانا

    کبھی تو ساتھ یہ آسیب وقت چھوڑے گا

    خود اپنے سائے کو بھی دیکھنا تو ڈر جانا

    جو چاہتے ہو سحر کو نئی زبان ملے

    تو پچھلی شب کے چراغوں کو قتل کر جانا

    ہمارے عہد کا ہر ذہن تو نہیں جامد

    کسی دریچۂ احساس سے گزر جانا

    فضاؔ تجھی کو یہ سفاکی ہنر بھی ملی

    اک ایک لفظ کو یوں بے لباس کر جانا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    سوال سخت تھا دریا کے پار اتر جانا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY