شاعری میں نئی جہت رکھی

سحرتاب رومانی

شاعری میں نئی جہت رکھی

سحرتاب رومانی

MORE BYسحرتاب رومانی

    شاعری میں نئی جہت رکھی

    میں نے اپنی الگ لغت رکھی

    کوئی تعمیر کس طرح ہوتی

    ساری بنیاد تھی غلط رکھی

    مجھ کو بخشا نہیں کمال کوئی

    اس نے مجھ میں یہی صفت رکھی

    مال خیرات کر دیا سارا

    صرف کشکول میں بچت رکھی

    اس نے چاہا غلام بن جاؤں

    سامنے میرے سلطنت رکھی

    پہلے پہلی پرت بچھائی اور

    اور پھر دوسری پرت رکھی

    تھک گیا میں تو جھانک کر دیکھا

    مجھ میں چلنے کی تھی سکت رکھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY