شاخ شاخ پر موسم گل نے گجرے سے لٹکائے تھے

نور بجنوری

شاخ شاخ پر موسم گل نے گجرے سے لٹکائے تھے

نور بجنوری

MORE BYنور بجنوری

    شاخ شاخ پر موسم گل نے گجرے سے لٹکائے تھے

    میں نے جس دم ہاتھ بڑھایا سارے پھول پرائے تھے

    کتنے درد چمک اٹھتے ہیں فرقت کے سناٹے میں

    رات رات بھر جاگ کے ہم نے خود پہ زخم لگائے تھے

    تیرے غموں کا ذکر ہی کیا اب جانے دے یہ بات نہ چھیڑ

    ہم دیوانے ملک جنوں میں بخت‌ سکندر لائے تھے

    دل کی ویراں بستی مجھ سے اکثر پوچھا کرتی ہے

    بستے ہیں کس دیس میں اب وہ لوگ یہاں جو آئے تھے

    پچھلی رات کو تارے اب بھی جھلمل کرتے ہیں

    کس کو خبر ہے اک شب ہم نے کتنے اشک بہائے تھے

    آج جہاں کی تاریکی سے دنیا بچ کر چلتی ہے

    ہم نے اس ویران محل میں لاکھوں دیپ جلائے تھے

    مجھ کو ان سے پیار نہیں ہے مجھ کو ان کے نام سے کیا

    آنکھیں یوں ہی بھر آئی تھیں ہونٹ یوں ہی تھرائے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY