شام غم ہے تری یادوں کو سجا رکھا ہے

مظفر رزمی

شام غم ہے تری یادوں کو سجا رکھا ہے

مظفر رزمی

MORE BYمظفر رزمی

    شام غم ہے تری یادوں کو سجا رکھا ہے

    میں نے دانستہ چراغوں کو بجھا رکھا ہے

    اور کیا دوں میں گلستاں سے محبت کا ثبوت

    میں نے کانٹوں کو بھی پلکوں پہ سجا رکھا ہے

    جانے کیوں برق کو اس سمت توجہ ہی نہیں

    میں نے ہر طرح نشیمن کو سجا رکھا ہے

    زندگی سانسوں کا تپتا ہوا صحرا ہی سہی

    میں نے اس ریت پہ اک قصر بنا رکھا ہے

    وہ مرے سامنے دلہن کی طرح بیٹھے ہیں

    خواب اچھا ہے مگر خواب میں کیا رکھا ہے

    خود سناتا ہے انہیں میری محبت کے خطوط

    پھر بھی قاصد نے مرا نام چھپا رکھا ہے

    کچھ نہ کچھ تلخئ حالات ہے شامل رزمیؔ

    تم نے پھولوں سے بھی دامن جو بچا رکھا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    شام غم ہے تری یادوں کو سجا رکھا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY