شانہ تو چھٹا زلف پریشاں سے الجھ کر

منور خان غافل

شانہ تو چھٹا زلف پریشاں سے الجھ کر

منور خان غافل

MORE BY منور خان غافل

    شانہ تو چھٹا زلف پریشاں سے الجھ کر

    سلجھا نہ یہ دل کاکل پیچاں سے الجھ کر

    لیتا ہے خبر کون اسیران بلا کی

    مر مر گئے تاریکیٔ زنداں سے الجھ کر

    زوروں پہ چڑھا ہے یہ مرا پنجۂ وحشت

    دامن سے الجھتا ہے گریباں سے الجھ کر

    دیوانے خط‌ و زلف کے سودے کی لہر میں

    کیا کیا نہ بکے سنبل و ریحاں سے الجھ کر

    آثار قیامت کہیں جلدی ہو نمایاں

    گھبرائے ہے جی اب شب ہجراں سے الجھ کر

    ڈرتا ہوں کہیں تاب نزاکت سے نہ کھاوے

    موئے کمر اس زلف پریشاں سے الجھ کر

    سو پیچ میں آیا ہے ہمارا دل صد چاک

    شانہ کی طرح کاکل پیچاں سے الجھ کر

    گرداب بلا میں دل عاشق کو پھنسایا

    بالی نے تری زلف پریشاں سے الجھ کر

    طے کر گئے سب کعبۂ مقصود کی منزل

    اک رہ گئے ہم نخل مغیلاں سے الجھ کر

    دوڑا ہوا جاتا ہے رقیب اس کی گلی کو

    یا رب یہ گرے رستے میں داماں سے الجھ کر

    جذب دل مجنوں نے کیا کام جو اپنا

    ناقہ نہ رکا خار بیاباں سے الجھ کر

    یا رب میں اسے دیکھوں اگر دیدۂ‌ بد سے

    رہ جائے نظر پنجۂ مژگاں سے الجھ کر

    اے تیر فگن بس ہے یہی مجھ کو تمنا

    چھوٹے نہ رگ جاں ترے پیکاں سے الجھ کر

    مت بحث رقیبان کج اندیش سے غافلؔ

    بے قدر نہ ہو ایسے سفیہاں سے الجھ کر

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY