شاید کہ مر گیا مرے اندر کا آدمی

خالد محمود

شاید کہ مر گیا مرے اندر کا آدمی

خالد محمود

MORE BY خالد محمود

    شاید کہ مر گیا مرے اندر کا آدمی

    آنکھیں دکھا رہا ہے برابر کا آدمی

    سورج ستارے کوہ و سمندر فلک زمیں

    سب ایک کر چکا ہے یہ گز بھر کا آدمی

    آواز آئی پیچھے پلٹ کر تو دیکھیے

    پیچھے پلٹ کے دیکھا تو پتھر کا آدمی

    اس گھر کا ٹیلیفون ابھی جاگ جائے گا

    صاحب کو لے کے چل دیا دفتر کا آدمی

    ذرے سے کم بساط پہ سورج نگاہیاں

    خالدؔ بھی اپنا ہے تو مقدر کا آدمی

    RECITATIONS

    خالد محمود

    خالد محمود

    خالد محمود

    شاید کہ مر گیا مرے اندر کا آدمی خالد محمود

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY